سہل بن عثمان، یزید بن زریع، عمر بن محمد، نافع، ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مشرکوں کی مخالفت کیا کرو مونچھیں کتروا کر اور داڑھی کو بڑھا کر۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 602  

Ibn Umar said: The Messenger of Allah (may peace be opon him) said: Act against the polytheists, trim closely the moustache and grow beard.
     
 محمد، عبدہ، عبیداللہ بن عمر، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی مونچھیں کترواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 837 
Narrated Ibn 'Umar: 
Allah's Apostle said, "Cut the moustaches short and leave the beard (as it is)."
  
 محمد بن مثنی، یحیی ابن سعید، ابن نمیر، ، عبید اللہ، نافع، ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہمیں حکم دیا گیا ہے مونچھوں کو جڑ سے کانٹے اور داڑھی کو بڑھانے کا ۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 600 

Ibn Umar said: The Apostle of Allah (may peace be upon him) said: Trim closely the moustache, and let the beard grow.

  
 قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، زکریا بن ابی زائدہ، مصعب بن شیبہ، طلق بن حبیب، عبداللہ بن زبیر، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دس چیزیں سنت ہیں مونچھیں کتروانا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخنوں کا کاٹنا، جوڑ دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال صاف کرنا، پانی سے استنجا کرنا مصعب راوی بیان کرتے ہیں کہ دسویں چیز میں بھول گیا شاید وہ کلی کرنا ہو۔]
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 604        

'A'isha reported: The Messenger of Allah (may peace be npon him) said: Ten are the acts according to fitra: clipping the moustache, letting the beard grow, using the tooth-stick, snuffing water in the nose, cutting the nails, washing the finger joints, plucking the hair under the armpits, shaving the pubes and cleaning one's private parts with water. The narrator said: I have forgotten the tenth, but it may have been rinsing the mouth.
 اس کے بارے میں علماء کا فیصلہ ہے کہ داڑھی کی لمبائی ایک مٹھی کے برابر ہونا ضروری ہے اس سے کم نہ ہونا چاہئے اگر مٹھی سے زیادہ بھی ہو جائز ہے بشر طیکہ حد اعتدال سے نہ بڑھ جائے۔
داڑھی کو منڈوانا یا پست کرنا حرام ہے کیونکہ یہ اکثر مشرکین مثلاً انگریز و ہندو کی وضع ہے، اسی طرح منڈی ہوئی یا پست داڑھی ان لوگوں کی وضع ہے جنہیں دین سے کوئی حصہ نصیب نہیں ہے کہ جن کا شمار " گروہ قلندری رمد مشرب" میں ہوتا ہے۔
داڑھی کے بال ایک مٹھی کے برابر چھوڑنا واجب ہے اسے سنت اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کا ثبوت سنت سے ہے جیسے نماز عید کو سنت فرماتے ہیں حالانکہ عید واجب ہے۔ 

بھاہیوں ابھی فیصلہ کیجیے کہ آپ اللّہ کے نبی ﷺ کے چہرے مبارک سے پیار کرتے ہیں یا ؟


مشرکوں کی مخالفت کیا کرو مونچھیں کتروا کر اور داڑھی کو بڑھا کر۔

Dear Brother take a decision right now that you love Allah's Prophet Face or ?

Act against the polytheists, trim closely the moustache and grow beard.

No comments:

Post a Comment